جب عمار نے مخالفت کی تو کیوں انہوں نے رسولؐ خدا سے نہیں پوچھا؟جب عمار نے اس بارے میں سنت پیغمبرؐ سے باخبر کیا تو کیوں انہوں نے عمار پر بھروسہ نہیں کیا جس کا ابن مسعود کو بھی احساس ہوا؟(۱) کیا خلیفہ پر حضرتؐ کی وہ بات پوشیدہ رہ گئی تھی جس کی بخاری وغیرہ نے عمران بن حصین سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک گوشہ میں بیٹھا ہے اور نماز نہیں پڑھ رہا ہے ۔ حضرتؐ نے اس سے پوچھا تو کیوں نماز نہیں پڑھ رہا ہے ؟اس نے جواب دیا یا رسولؐ اللہ میں مجنب ہوگیا ہوں اور پانی بھی میرے پاس نہیں ہے ۔حضرتؐ نے فرمایا: "علیک بالصعید فانہ یکفیک"(۲) تمہارے لئے مٹی کافی ہے ۔صرف یہی ایک موقع نہیں تھا حضرتؐ نے متعدد مواقع پر ایسی راہنمائی فرمائی تھی۔(۳) پھر کس طرح خلیفہ ان سے واقف نہ ہوئے۔

تیمم کے بارے میں دو آیتیں نازل ہوئی ہیں:۱۔ "یا ایھا الذین آمنوا لا تقربوا الصلاۃ و انتم سکاریٰ حتی تعلموا ما تقولون و لا جنبا الا عابری سبیل حتی تغسلوا و ان کنتم مرضی او علی سفر اوجاء احدمنکم من الغائط اولامستم النساء فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیداً طیباً فامسحوا بوجوھکم وایدیکم ان اللہ کان عفوا غفورا "(اے ایمان دارو تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ تاکہ تم جو کچھ منھ سے کہو سمجھو بھی تو اور نہ جنابت کی حالت میں یہاں تک کہ غسل کرلو مگر راستے سے گذررہے ہو(جب غسل ممکن نہیں ہے تو البتہ ضرورت نہیں ہے )بلکہ اگر تم مریض ہو(اور پانی نقصان کرے ) یا سفر میں ہو تم میں سے کسی کا پائخانہ نکل آئے یا عورتوں سے صحبت کی ہو اور تم کو پانی میسر نہ ہو(کہ طہارت کرو) تو پاک مٹی پر تیمم کرلو اور (اس کا طریقہ یہ ہے کہ ) اپنے منھ اور ہاتھوں پر مٹی بھرا ہاتھ پھیرلو۔بے شک خدا معاف کرنے والا (اور )بخشنے والا ہے ۔نساء /۴۳)حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ یہ آیت مسافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب وہ مجنب ہو جائے اور پانی نہ  ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھے یہاں تک کہ اس کو پانی مل جائے اور جب پانی مل جائے تو غسل کرلے ۔ (۴)

۲۔"یا ایھاالذین آمنوا اذا اقمتم الی الصلاۃ فاغسلوا وجوھکم وایدیکم الی المرافق و امسحوا برؤسکم وارجلکم الی الکعبین و ان کنتم جنبا فاطھّرووان کنم مرضی او علی سفر او جاء احد منکم من الغائط اولا مستم النساء فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیداً طیباً فامسحوا بوجوھکم و ایدیکم منہ "(اے ایمان دارو جب تم نماز کے لئے آمادہ ہو تو اپنے منھ اور کہنیوں تک ہاتھ دھولیا کرو اور اپنے سروں کااور ٹخنوں تک پاؤں کا م سح کرلیا کرو اور اگر تم حالت جنابت میں ہو تو تم طہارت (غسل) کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا تم میں سے کسی کو پائخانہ نکل آئےیا عورتوں سے ہمبستری کی ہو اور تم کو پانی نہ مل سکے تو پاک خاک سے تیمم کرلو یعنی (دونوں ہاتھ مارکر) اس سے اپنے ہاتھوں کا مسح کرلو ۔مائدہ/۶) اس آیت میں ملامسہ سے مراد بیوی سے ہمبستری ہے اس مطلب کی حضرت علی ؑ ،ابن عباس اور ابو موسیٰ اشعری نے وضاحت کی اور ان کی حسن ،عبیدہ اور شعبی وغیرہ نے پیروی کی ہے بلکہ یہی نظریہ ہر اس شخص کا ہے جو بیوی سے لمس پر وضو کا قائل نہیں ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ خلیفہ کا نظریہ قرآن و سنت پیغمبرؐ اور اجماع امت کے مقابلے انوکھا تھا اور وہ نص کے مقابلے اجتہاد کیا کرتے تھے ۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔صحیح بخاری (ج۱،ص۱۳۲،حدیث ۳۳۸)،صحیح مسلم (ج۱،ص۳۵۴،حدیث ۱۱۰،کتاب الحیض )،سنن بیہقی ،ج۱،ص۲۲۶،تیسیر الوصول ،ج۳،ص۹۷(ج۳،ص۱۱۴،حدیث ۶)۔

۲۔ صحیح بخاری ،ج۱،ص۱۲۹(ج۱،ص۱۳۴،حدیث ۳۴۱)،صحیح مسلم (ج۲،ص۱۳۱،حدیث ۳۱۲،کتاب المساجد )،مسند احمد ،ج۴،ص۴۳۴(ج۵،ص۶۰۰،حدیث ۱۹۳۹۷) ،سنن نسائی ، ج۱،ص۱۷۱(ج۱،ص۱۳۶،حدیث ۳۱) ،سنن بیہقی ،ج۱،ص۲۱۹،تیسیر الوصول ،ج۳،ص۹۸ (ج۳، ص۱۱۵،حدیث ۱۱)۔

۳۔سنن بیہقی ،ج۱،ص۲۱۶،۲۲۰،تاریخ بغداد ،ج۸،ص۳۷۷(نمبر۴۴۷۷)۔

۴۔ سنن بیہقی ،ج۱،ص۲۱۶۔