سعودی عرب کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کیوں؟
ترک صدر رجب طیب اردگان نے جعلی مقدمات میں آیت اللہ باقر النمر کو دی جانے والی بلاجواز سزائے موت کے بارے میں یہ کھہ کر مذمت کرنے سے انکار کیا ہے کہ یہ سعودی عرب کا اندرونی قانونی معاملہ ہے۔ یہ وہ نیریٹیو ہے جس کی بنیاد پر پاکستان سمیت بھت سے ممالک میں اس سزا کی مخالفت و مذمت کرنے والوں کو منع کیا جا رھا ہے۔ انھیں مشورہ دیا جا رھا ہے یا تنبیہ کی جا رھی ہے کہ سعودی عرب کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کریں بلکہ خاموشی اختیار کریں۔ کیا یہ نیریٹیو یا بیانیہ قابل قبول ہے۔؟
+ نوشته شده در ساعت توسط Syed Imtiyaz abbas rizvi Rizwan
|