عمر نے گواہ مانگے ۔لڑکے کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا جسے پیش کرتا مگر عورت نے اس پر گواہ پیش کردیئے کہ اس نے شادی نہیں کی ہے اور لڑکے نے اس پر تہمت دی ہے ۔ عمر نے اس کو مارنے کا حکم دیا ۔اسی وقت علی ؑ سے ملاقات ہوگئی آپ نے قضیہ پوچھنے کے بعد مسجد میں بلوایا اور عورت سے اس بارے میں دریافت کیا اس نے اس کے بیٹا ہونے سے انکار کردیا۔ جوان سے کہا جس طرح اس نے تجھے اپنا بیٹا ہونے سے انکار کیا ہے اسی طرح تو بھی اپنی ماں ہونے سے انکار کردے ۔ جوان نے کہا اے رسولؐ خدا کے ابن عم (چچازاد بھائی) یہ میری ہی ماں ہے ۔علی نے پھر کہا تو اس بات سے انکار کردے کہ یہ تیری ماں ہے اور میں تیرا باپ اور حسن و حسین تیرے بھائی ہو جائیں گے ۔ یہ سن کر اس جوان نے اس کے ماں ہونے سے انکار کردیا۔ علی نے اس عورت کے رشتہ داروں سے پوچھا کیا اس عورت کے بارے میں میرا حکم نافذ ہے ؟سب نے کہا ہاں بلکہ ہمارے بارے میں بھی آپ کا حکم نافذ ہے تب آپ نے کہا جو افراد یہاں ہیں وہ گواہ رہیں کہ میں نے اس جوان کا نکاح اس عورت سے کردیا اور قنبر سے وہ تھیلی جس میں چار سو اسی درہم تھے منگوا کر مہر کے نام دے دیئے اور جوان سے کہا لے جا یہ تیری بیوی ہے اب تو میرے پاس میاں بیوی کی حیثیت سے آنا۔جیسے ہی وہ جوان پلٹا عورت چیخنے لگی اے ابو الحسن خدا کی قسم یہ میرے لئے جہنم کا وسیلہ ہے ،یہ میرا ہی بیٹا ہے ۔علی نے پوچھا پھر ایسا کیوں کیا؟عورت نے جواب دیا اس کا باپ حبشی تھا میرے بھائیوں نے اس سے میری شادی کردی جس سے یہ جوان پیدا ہوا ۔اس کا باپ جنگ پر گیا اور مار ڈالا گیا میں نے اسے فلاں قبیلہ میں بھیجا جہاں وہ بڑا ہوا اور میں نے اس کو اپنا بیٹا ہونے سے انکار کردیا۔ علی ؑ نے کہا میں ابو الحسن ہوں اور اس جوان کو اس کی ماں سے ملایا جس سے اس کا نسب ثابت ہوگیا۔ (۱) 


۱۔الطرق الحکمیۃ ،ص۴۵۔