آل سعود صھیونزم کے نقش قدم پر گامزن
آل سعود صھیونزم کے نقش قدم پر گامزن
سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر تین سال کی قید اور جسمانی و نفسیاتی ٹارچر برداشت کرنے کے بعد آخرکار شھادت کے مرتبے پر فائز ھوگئے۔
سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر تین سال کی قید اور جسمانی و نفسیاتی ٹارچر برداشت کرنے کے بعد آخرکار شھادت کے مرتبے پر فائز ھوگئے۔
سرکاری طور پر سعودی عرب میں 98 فیصد مسلمان ہیں، جس میں سے 15 فیصد اھل تشیع تیل کی دولت سے مالامال مشرقی علاقوں میں آباد
ہیں، مگر اُن کے ساتھ پورے سعودی عرب میں امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور انھیں تیسرے درجے کا شھری تصور کیا جاتا ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال فرماتے ہیں
اللہ سے کرے دُور تو تعلیم بھی فتنہ
اِملاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کیلئے اُٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ھی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
رھبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دشمنوں کے وسیع محاذ کے مقابلے میں ھوشیاری اور دلیری کے ساتھ استقامت اور پائیداری سے کام لینے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔
امام علی نقی علیہ السلام معتمد عباسی پر بھت گراں گذر رہے تھے چونکہ امام اسلامی معاشرہ میں عظیم مرتبہ پر فائز تھے جب امام (ع) کے فضائل شائع ھوئے تو اس کو امام سے حسد ھو گیا اور جب مختلف مکاتب فکر کے افراد اُن کی علمی صلاحیتوں اور دین سے اُن کی والھانہ محبت کے سلسلہ میں گفتگو کرتے تو وہ اور جلتا آخر کار اُس نے امام علیہ السلام کو زھر ھلاھل دیدیا۔
امام علی نقی علیہ السلام کا سفر آخرت
شھادت امام علی نقی علیہ السلام کے موقع پر آپ تمام محبان اھل بیت علیھم السلام پر تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
امام علی نقی علیہ السلام حکام کے ظلم وجور کے خلاف مستعدی سے ڈٹے رھے یھاں تک کہ ان کے آباء واجداد کی مانند ان کے لئے بھی زھر منگوایا گیا اور ان کوکھلایا گیا۔
حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:ھم اھل بیت میں سے کوئی نھیں سوائے یہ کہ اس کو یا قتل کیا گیا ھو یا زھر دیا گیا ھو۔(١)
حضرت علی﴿ع﴾ کی ولادت کے موقع پر دیوار کعبہ میں پڑے شگاف کو بند کرنے کی کوشش میں
حضرت علی﴿ع﴾ کی ولادت باسعادت کے موقع پر خانہ کعبہ کی دیوار میں پڑنے والے شگاف کو حضرت علی﴿ع﴾ سے دشمنی رکھنے والے وھابیوں نے بند کر نے کی کوشش کی ہے۔
ايک دفعہ کا ذکر ہے"……"یاايک "--- "ھوا کرتا تھا- يہ ايسے جملے ہيں جن کو سنتے ھي ھمارے ذھنوں ميں فوراً بچپن ميں سُني ھوئي کھانيوں کي آواز گونجنے لگتي ہے اور تصور ميں کھاني سنانے والوں کي تصوير محوِ رقص ھوتي ہے- يقينا يہ کھانيوں کي وہ تاثيرہے جو ھمارے ذھنوں پر نقش ھو کر زندگي کے حصے بن جاتي ہيں-
قصہ گوئي يا کھاني سنانا ايک ايسا فن ہے جس ميں الفا1 تصوير اور آواز کے ذريعے ايک حقيقي يا افسانوي واقعہ کي نقشہ کشي يا عکاسي کي جاتي ہے- کچھ کھانياں صرف تفريحي مقاصد کے ليے ھوتے ہيں جبکہ اکثر کھانياں سبق آموز ھوتي ہيں اور اخلاقي قدريں بيان کرتي ہيں-
مقامِ حضرت علی علیہ السلام کو سمجھنے کا ایک بھترین اور اھم ترین ذریعہ علمائے اھلِ سنت کے نظریات اور اُن کا کلام ہے۔ یہ انتھائی دلچسپ بات ھوگی کہ علی علیہ السلام کے بلند وبالا مقام کو اُن افراد کی زبانی سنیں جو مسندِ خلافت کیلئے تو دوسروں کو مقدم سمجھتے ہیں لیکن علی علیہ السلام کی عظمت کے قائل بھی ہیں اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل کو مانتے بھی ہیں لیکن چند صحابہ کے قول و فعل کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت و نصیحت پر ترجیح دیتے ہیں۔اس سے خود اُن کو بھت بڑا نقصان ھوا کیونکہ وہ علومِ اھلِ بیت(ع)سے فائدہ اٹھانے سے محروم رھے اور حکمت و دانائی کے وسیع خزانوں اور قرآن کی برحق تفسیر سے ھدایت و رھنمائی حاصل کرنے سے قاصر رھے۔
ھماری اقتصاد کے متعلق عدالت اجتماعی کے حوالہ سے بحث جاری تھی ، میں اب تک تین بنیادی مسائل بیان کر چکا ھوں۔
اسلام کے اقتصاد میں اعتدال کے بارے میں متعدد پہلو ہیں میں اس کے ھر پھلو پر مختصر روشنی ڈالوں گا،میں نے عرض کیا تھاکہ اسلام زیادہ سے زیادہ تولید کے حق میں ہے البتہ فقر اور زیادہ مال ودلت کو پسند نہیں کرتا، اسلام یہ چاھتاہے کہ ھمار ے پاس اپنی ضروریات کے مطابق مال ودولت ھونا چاھئیے ۔